بھٹکل 13/ نومبر (ایس او نیوز) بھٹکل میں نئے نوٹ لینے کو لے کر بینکوں کے باہر لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں. دن نکلتے ہی لوگ بینکوں کے گیٹ پر آکر کھڑے ہو جاتے ہیں تاکہ پرانے نوٹ کے بدلے نیا نوٹ اور کھلے روپے حاصل کرسکیں، لیکن بینکوں کے باہر سو نہیں پانچ سواور ہزار لوگوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے.
ایس بی آئی بینک منیجر کا کہنا ہے کہ عوام کو زیادہ بھیڑ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، عوام آرام سے اپنے نوٹوں کو بدلوا سکتے ہیں، اُن کے پاس کافی وقت ہے، کسی کو جلدی کرنے کی ضرورت نہیں ہے، مگر عوام کہتے ہیں کہ اُن کے پاس سو روپئے کے نوٹ ہی نہیں ہیں تو وہ بازار سے سبزی، دودھ اور دیگراشیاء کیسے خریدیں ؟ آٹو پر اور بسوں پر بیٹھنے کے لئے لوگوں کے پاس پیسے نہیں ہیں، آٹو والے لوگوں کو رکشہ پر بٹھانے سے پہلے دریافت کرتے ہیں کہ سو روپئے کا کھلا ہے تو ہی بیٹھیں۔ ہوٹلوں میں جاتے ہیں تو کھانے یہاں تک کہ چائے پینےکے لئے بھی لوگوں کے پاس سو سو کے نوٹ نہیں ہیں۔
اُدھر بھٹکل کے کچھ لوگ پڑوسی ریاست کیرالہ کے کالی کٹ میں علاج کے لئے جانے کے دوران بری طرح پھنس جانے کی اطلاع ملی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ علاج کی غرض سے وہ لوگ کالی کٹ پہنچے تھے جسکے دوران بڑے نوٹوں کو بند کرنے کا اعلان ہوا، جس کے ساتھ ہی وہ لوگ پریشانی میں گھر گئے۔ اُن لوگوں کے پاس اسپتال سے ہوٹل جانے کے لئے رکشہ کو دینے کے لئےرقم نہیں ہیں اور نہ ہی ہوٹل میں رُکنے کے لئے رقم ہے۔ اُن کے مطابق ہوٹل میں جاکر کھانے کو دینے کے لئے رقم موجود نہیں ہے۔
ایسے میں سوشیل میڈیا میں جھوٹی افواہیں بھی پھیلائی جارہی ہیں،جس سے عوام کی پریشانیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایسی ہی ایک جھوٹی خبر وہاٹس آپ پر گردش کررہی ہے کہ شادی کا کارڈ لے کر پولیس افسر کی مہر لگا کر لائیں گے تو بینک سے پانچ لاکھ روپے مل جائیں گے. اس بات پر گفتگو کرتے ہوئے ایک بینک مینجر نے بتایا کہ ایسی گائیڈ لائن اسٹیٹ بینک آف انڈیا سے نہیں ملی ہے. لہذا یہ خبر جھوٹی ہے انہوں نے ایسی افوہیں نہ پھیلانے کی بھی عوام سے درخواست کی ہے۔